چین کی چالیس سالہ اقتصادی جدوجہد کیسے رنگ لائ

تحریر: ولی زاہد
ترجمہ: محمد علی شیخ
سال ۲۰۱۳ میں مجھے حیدرآباد میں واقع پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے دفتر میں شہری ہوا بازی کے نئے بھرتی شدہ افسران کے گروپ کو ’ایوی ایشن لیڈرشپ ‘ پر تربیتی نشست کروانے کا موقع ملا۔ میں نے تربیتی پروگرام کے شرکا کو ’دی کمرشل ائرکرافٹ کارپوریشن آف چائنا‘ کا ایک کیس اسٹڈی دیا اور انہیں بتایا کہ اس کمپنی کے پاس دس سالہ مدت میں مسافر طیارہ تیار کرنے کا ہدف ہے ۔ میں نے شرکاء سے پوچھا کہ کیا انہیں یہ ممکن لگتا ہے ؟ زیادہ تر کا جواب نفی میں تھا۔ کچھ کے نزدیک ایسا ہونا معجزے کے مترادف تھا ۔ میں نے انہیں بتا دیا کہ ایسا ہو چکا ہے۔ یہ معجزہ واقعئ ہو چکا ہے۔ مئی دوہزار سترہ میں مزکورہ کمپنی ’سی ۹۱۹‘ نامی مسافر طیارے کی آزمائشی اڑان بھر چکی ہے۔

یہ چین کے چالیس سالہ اصلاحی و اقتصادی سفر کی دیومالائی داستان ہے۔ ٹیکنالوجی سے تعلیم اور ثقافت تک، چین نے دنیا کوحیران کیا ہے۔

دو شعبئہ جات ، غربت میں کمی اور معاشی ترقی، میں چینی معجزات بے مثال وقابل ستائش ہیں۔

گزشتہ چار دہائیوں میں ستر کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالنا عالمی معیشت دانوں کے لئیے ناقابل تصور تھا ، مگر چین ڈٹا رہا ۔ سن انیس سو اٹھتر میں ستانوے فیصد چینی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے تھی۔ دو ہزار اٹھارہ میں یہ تعداد گھٹ کے صرف ۳ فیصد یعنی ۳ کروڑ رہ گئ۔ مطلب یہ کہ ہر سال تقریباؔ دو کروڑ چینی باشندے غربت کو شکست دینے میں کامیاب رہے۔

یہاں ہم چینی معاشی ترقی کے کچھ اہم نکات پر اپنی توجہ مرکوز کریں گے۔

سال انیس سو اٹھتر میں جب ڈینگ ژیپائو پنگ کی تاریخی تقریر کے کے ساتھ معاشی اصلاحات کا آغاز ہوا، عالمی معیشت میں چین کا حصہ ایک ا عشاریہ سات پانچ فیصد یعنی ۱۵۰ ملین ڈالر تھا۔ سال ۲۰۱۸ میں یہ بڑھ کر پندرہ فیصد ہو گیا۔ اب چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے۔

اصلاحا ت کے ان چالیس سالوں میں چین ۳۵۰۰ فیصد نمو کے ساتھ دنیا کہ دیگر تمام ممالک کو پیچھے چھوڑ چکا ہے۔ یہ کارکردگی مثل واحد ہے۔

سال دو ہزار چودہ میں جب چین نے پہلی بار عوامی قوت خرید یا پرچیز پاور پاریٹی (پی پی پی ) میں امریکہ کو پیچھے چھوڑا ، تب ہی سے چین امریکی معیشت کو ہر سال ایک ٹرلین ڈالر سے پیچھے چھوڑتا جا رہا ہے۔

سال ۲۰۱۸ میں تئیس اعشاریہ دو ٹرلین ڈالر پی پی پی کے ساتھ چین اپنے حریف امریکہ سے چار ٹرلین ڈالر آگے ہے۔ مزکورہ اعداد و شمار مختلف اشاریوں و متعئین مقداروں کے زریعے عالمی معیشت پر تحقیق کرنے والے ادارے ’ورلڈ دیٹا اٹلس‘ کے بیان کردہ ہیں۔

ریاست امریکہ تقریباؔ ایک سو چالیس سال سے دنیا کی سب سے بڑی معیشت رہا ہے۔ یہ اعزاز سال اٹھارہ سو بہتتر میں اس نے برطانیہ سے چھینا ۔ اوراب چین نے امریکہ سے۔

مجموعی پیداوار کے معاملے میں امریکہ اب بھی دنیا کی سب سے معیشت ہے جس کا سال ۲۰۱۸ کا جی ڈی پی انیس اعشاریہ چار ٹرلین ڈالر بمقابلہ بارہ اعشاریہ دو ٹرلین ڈالر چینی جی ڈی پی تھا۔

سال ۱نیس سو اسی میں امریکی مجموعی مقامی پیداوار بہ اشارہ قوت خرید دو اعشاریہ نو ٹریلین ڈالر تھا ۔ جب کہ چین صرف تین سو چھ بلین ڈالر تک محدود تھا ، یہ فرق تقریباؔ دس گنا بنتا ہے۔

سال انیس سو اٹھتر میں چینی شہریوں کی ایک سو چھپپن ڈالر فی کس اوسط آمدنی اب پچاس گنا اضافے کے ساتھ سال دو ہزار اٹھارہ میں ۹۰۰۰ ہزار ڈالر فی کس ہے۔

سال دو ہزار اٹھارہ میں چین کا غیر ملکی تجارتی حجم چار ٹریلین ڈالر سے بڑھ چکا ہے، جو کہ سال انیس سو اٹھتر کے مقابلے میں تقریباؔ دو سو گنا ہے۔

سال دو ہزار چھ سے اب تک چین دنیا کے سب سے بڑے زرمبادلہ کے زخائر کا مالک رہا ہے۔ سال انیس سو اٹھتتر کے ایک سو ستتر ملین ڈالر کے مقابلے سال دو ہزار اٹھارہ میں یہ زرمبادلہ تین اعشاریہ ایک پانچ ٹریلین ڈالر رہا۔

چین کی ابھرتی ہوئی معیشت کے مزید کچھ اشارئیے ۔

فاربس میگزین کی حالیہ درجہ بندی کے مطابق دنیا کی دس بڑی پبلک کمپنیز میں سے پانچ کمپنیاں چینی ہیں۔ درجہ بندی درج زیل ہے۔

درجہ ِ اولؔ : انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک آف چائینا ۔ تین سو گیارہ بلین ڈالر
درجہِ دوم : چایئنا کنسٹرکشن بینک ۔ دو سو اکسٹھ بلین ڈالر
درجہ ِپنجم : ایگریکلچر بینک آف چایئنا ۔ ایک سو چوراسی بلین ڈالر
درجہ ِ نہم : بینک آف چائینا ۔ ایک سو انسٹھ بلین ڈالر
درجہِ دہم : پِن انشورنس گروپ ۔ ایک سو اکیاسی بلین ڈالر

ٹیکنالوجی کے کاروبار سے منسلک کمپنیاں جیسے ’علی بابا‘ اور ’ٹین سینٹس گروپ‘ بھی اسی فہرست میں شامل ہیں۔

اسی طرح سال دو ہزار سولہ میں دنیا کی دس بڑی آجر کمپنیوں میں سے دس چین سے تعلق رکھتی تھیں۔
ان کی درجہ بندی درج زیل ہے۔

درجہ ِ دوم: پی ایل اے ۔ دو اعشاریہ تین ملین ڈالر
درجہِ ششم : چایئنا نیشنل پٹرولیم کارپوریشن ۔ ایک اعشاریہ چھ ملین ڈالر
درجہِ ہفتم: اسٹیٹ گرڈ کارپوریشن آف چایئنا ۔ ایک اعشاریہ پانچ ملین ڈالر
درجہ ِ دہم : فاکس کان ۔ ایک اعشاریہ دو ملین ڈالر

ایک اور اشاریہؔ: دنیا کی بیس بڑی کنٹینر بندرگاہوں میں سے آدھی چین میں واقع ہیں۔ چین کے مرکزی سائینسی ادارے کے مطابق دنیا کیا سب سے بڑی کنٹینر بندرگاہ شنگھا ئی پورٹ ہے۔ جو اڑتیس اعشاریہ پانچ ملین کنٹینر ہینڈل کرنے کی صلاحت رکھتی ہے۔

چینی سیاح دنیا کا سب سے بڑا سیاحتی گروہ ہیں۔ اقوام ِ متحدہ کے ادارہ برائے سیاحت کے مطابق سال دو ہزار سولہ میں دو سو اکسٹھ بلین ڈالر خرچ کئے جو عالمی سیاحتی اخراجات کا اکیس فیصد ہے ۔

معاشی ترقی اور عالمی اثرورسوخ میں تعلق

چین کی معاشی ترقی نے چینی سیاسی قیادت اور چینی صدرژی چن پانگ کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا۔ حتیؔ کہ آئی ایم ایف چینی کرنسی کو ایس ڈی آر باسکٹ میں پانچویں اہم ترین کرنسی کے طور پر شامل کرنے پر مجبور ہو گیا۔

امریکی جریدے ’فاربِس‘ نے چینی صدرژی چن پانگ کو سال دو ہزار اٹھارہ کی عالمی طاقتور ترین لوگوں کی درجہ بندی میں پہلے درجے پر رکھا ۔

کمیونسٹ پارٹی پارٹی آف چائینا مدتِ صدارت کی زیادہ سے زیادہ حد میں توسیع کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب صدر ژی پہلا درجہ حاصل کر نے میں کامیاب ہوئے۔ ’فاربس‘ کے مطابق صدر ژی چئرمیں مائو کے بعد سب سے زیادہ قائدانہ صلاحیتوں کے مالک سمجھے جاتے ہیں۔ چینی صدر نے پہلا درجہ روسی صدر ولادمیرپیوٹن کو پیچھے چھوڑتے ہوئے حاصل کی جو اس درجہ بندی میں مئی دو ہزارسے پہلے نمبر پر براجمان تھے۔

اپنی بے نظیر معاشی ترقی کی مدد آنے والے وقتوں میں چین ، امریکی ز ِیر اثر عالمی مالیاتی اداروں جیسے آئی ایم ایف اور ورلڈ ینک کی بالا دستی کو للکار سکتا ہے۔ چینی سرپرستی میں چلنے والے ادارے آئی آئی بی اور برکس ڈیویلپمینٹ بینک اس بات کی مثال ہیں کہ چین موجودہ صورت ِ حال میں ایک خاموش تماشائی رہنے کی بجائے اپنے جائز مقام کا متمننی ہے۔

سال دو ہزار تیرہ میں ’بیلٹ اینڈ روڈ ‘ حکمت ِ عملی کے زریعے برِاعظم ایشیاء ، افریقا ، اور یورپ کے اڑسٹھ ممالک مواصلاتی ملاپ کا آغاز ہوا۔ اس ملاپ اور بنیادی ترقی کے منصوبہ جات پرایک ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری ایک ایسا سنگ میل ہے جس کا موازنہ بعد از جنگ نافذ ہونے والے ’مارشل پلان‘ سے کیا جا رہا ہے۔

دیگر ممالک چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

دنیا کے دیگر ممالک چینی معجزاتی ترقی سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں ۔ پاکستان ، انڈیا اور ان جیسے دوسرے ممالک کی لئے چین کی غربت کے خاتمے کی حکمت عملی ایک روشن مثال ہے۔

پیداواری صلاحیت وقابلیت میں اضافہ اور نیم خواندہ و نیم ہنرمند افرادی قوت کے لئے ملازمت کے مواقعے پیدا کرنے کے لئے ، چین کی تیز رفتار ترقی مشعل ِ راہ ہے۔

معاشی ترقی کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی چھوٹی و درمیانی حجم کی اور کاروباری ماحول میں بہتری، چین کی تیز رفتار ترقی سے سیکھی جا سکتی ہیں۔

شین زین سے ملحقہ ’خصوصی برآمدی علاقوں‘ کے قیام کے ذریعے برآمدی معیشت کی تخلیق اور ’میڈ ان چائینا ۲۰۲۵‘ جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔ جو ان ممالک کے غیرملکی قرضوں کی ادائیگی، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے، اور تجارتی توازن میں بہتری لائیں گے۔

مجموعی مقامی پیداوار (جی ڈی پی) میں مستقل و پائدار بہتری کے لئے یہ ممالک براہ راست کی جانے والی غیر ملکی سرمایہ کاری کی لیے ایک پرکشش منزل بن سکتے ہیں۔ سال ا نیس سو اٹھتر سے اب تک چین ۲ ٹرلین ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری لانے میں کامیاب رہا ہے۔

زرعئی شعبے میں چین کی کامیابیاں افریقی اور ایشین ممالک کے لئے قابل تقلید ہیں۔ ان کی زرعئی پیداوار میں اضافہ اور زرعئی ٖفضلے دوبارہ کارآمد بنانا مستقل بنیادوں پر ممکن ہے۔ مزید برآں ان ممالک کو یہ سمجھنا ہو گا کہ معاشی ترقی ’سو میٹرکی تیز رفتار دوڑ‘ نہیں بلکہ صبر آزما ’میراتھن ‘ ہے۔ صرف طویل مدتی معاشی حکمت عملی اور درمیانی مدتی اصلاحات ، وہ نتائج دے سکتے ہیں جو چٰین حالیہ سالوں میں دے پایا ہے۔

چین کی مستقبل کی معاشی حیشیت

نومبر دوہزار اٹھارہ میں چین اپنی طرز کی پہلی بین الاقوامی درآمدی نمائش منعقد کر چکا ہے۔ اس نمائش کا مقصد دنیا کے دیگر ممالک کہ باآور کروانا تھا کہ وہ چین کے مسلسل بڑھتے ہوئے مڈل کلاس اور امیر صارفین ، جن کے پاس خرچ کرنے کے لئے مناسب رقم ہے، کے لئے اشیاء و خدمات فروخت کر سکتے ہیں۔ اگلے پانچ سالوں میں چین دس ٹریلین ڈالر تک کی اشیا و خدمات درآمد کرے گا۔

دنیا کی سب سے بڑی اکائونٹنگ فرم ’پی ڈبلیو سی‘ کے مطابق، چین قریب ساٹھ ٹریلین ڈالر حجم کے ساتھ ، سال دو ہزارپچاس تک، دنیا کی سب سے بڑی معیشت رہے گا۔

مجموعی مقامی پیداوار (جی ڈی پی) برائے سال ۲۰۱۸، بارہ ٹرلین ڈالر کے ساتھ ، چین ایک دہائی کے اندر دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہو گا۔

فارچون ۵۰۰ درجہ بندی میں ۳۲ویں درجہ پر فائز ’سٹی گروپ‘ کی ایک تحقیق کے مطابق چین کا جی ڈی پی اٹھائیس ٹریلین ڈالر بمقابلہ امریکی جی ڈی پی چھبیس ٹریلین ڈالر ہو گا۔
یہ پیش گوئی متوقع رفتار برائے معاشی ترقی اور چینی کرنسی بمقابلہ امریکی ڈالر قدر میں متوقع اضافہ، جو ۵ یوان فی ڈالر ہوگا، کی بنیاد پر کی گئی ہے۔

دنیا کی سب سے بڑے انویسٹمینٹ بینک گولڈ مین ساش کے مطابق، سال ۲۰۵۰ میں چین کا جی ڈی پی ۵۳ ٹریلین ڈالر ہو گا، جو امریکی متوقع جی ڈی پی سے تقریباؔ دگنا ہے۔

سال ۲۰۱۸ آنے والے سالوں میں متوقع عالمی سرمایہ کاری کا ایک منظر پیش کر رہا ہے۔ بلوم برگ رپورٹ کے مطابق سال ۲۰۲۵ تک عالمی سرمایہ کار تین اعشارئیہ تین چھ ٹریلین ڈالر کے اثاثے چین کے لئے مختص کریں گے۔

چین کی دوسرے ممالک کے ساتھ سانجھے داری کی خواہش روز ِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ اس صورت ِحا ل میں دیگر ممالک چینی معاشی ترقی سے باہمی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

مصنف ولی زاہد سابق صحافی اور پیشہ ور تربیت کار ہیں

مترجم محمد علی شیخ بینکنگ و تجارت کے پیشہ ور تربیت کار ہیں

There are currently no comments.