دنیا بدعنوان مگر پاکستان ایک تہائی ممالک سے بہتر۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل

تحریر: ولی زاہد

ترجمہ: محمد علی شیخ

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے ’ادراک بدعنوانی درجہ بندی برائے دو ہزار سولہ‘ کے مطابق، پاکستان میں گزشتہ سال بدعنوانی میں کچھ کمی آئی ہے۔ دو درجہ ترقی کے ساتھ پاکستان 30 سے 32 ویں درجہ پر پہنچ چکا ہے۔ دوہزار سولہ کے 176 بدعنوان ترین ممالک میں پاکستان ۹ درجہ ترقی کے ساتھ 116 ویں درجہ پر ہے۔ جبکہ دو ہزار پندرہ میں 168 ممالک کی فہرست میں پاکستان کا مقام 117 تھا۔

بد عنوان ممالک کی 1996 میں کی جانے والی پہلی درجہ بندی سے اب تک یہ پہلا موقعہ ہے کہ پاکستان بدترین ممالک کی پست درجہ بندی سے درمیانی درجہ بندی کی طرف آیا ہے۔

اس طرح پاکستان کی کارکردگی اس کے جنوبی ایشیائی ہم عصر ممالک سے بہتر ہے۔ ما سوائے چین جو بدعنوانی میں پاکستان سے زیادہ کمی کر رہا ہے۔

جن ممالک سے پاکستان بہتر رہا:۔

ایران 131

نیپال 131

روس 131

نائجیریا 136

بنگلہ دیش 145

افغانستان 169

:وہ ممالک جو پاکستان سے بہتر رہے

مصر 108

فلپائین 101

تھائی لینڈ 101

سری لنکا 95

انڈونیشیا 90

انڈیا 79

چین 79

ترکی 75

سعودی عرب 62

ملائشیا 55

قطر 31

اسرائیل 28

بھوٹان 27

متحدہ عرب امارات 24

 18 امریکا


Related reports

Pakistan is less corrupt than last year. This is good news. What’s the bad news?

Good! Pakistan no more among the most corrupt in the world

Fighting corruption won’t end poverty; a capable state will

The cost of corruption

Power DOES corrupt even the honest: study

Life in prison for corruption for China’s most powerful security chief

How China punishes its powerful generals & officials for corruption

South Asia world’s most corrupt region: TI

The Fraudulent Claims: Messed-up Pakistan Series 1

Under Control: Messed-up Pakistan Series Curse 3

Raising a moral child

Why Tehreek-e-Adl? 1/6


نوے شمار کے ساتھ ڈنمارک دنیا کا سب سے کم بدعنوان ملک ہے۔ 8 شمار کے ساتھ صومالیہ دنیا کا سب سے زیادہ بدعنوان ملک ہے ۔

ادراک بدعنوانی درجہ بندی ‘ دو ہزارنو سے دو ہزار سولہ کا ایک تقابلی جائزہ درج زیل ہے: ۔

سال دو ہزار سولہ درجہ بندی 116 ۔ شمار 32

سال دو ہزار پندرہ درجہ بندی 117 ۔ شمار 30

سال دو ہزار چودہ درجہ بندی 126 ۔ شمار 29

سال دو ہزار تیرہ درجہ بندی 127 ۔ شمار 28

سال دو ہزار بارہ درجہ بندی 139 ۔ شمار 27

سال دو ہزار گیارہ درجہ بندی 134 ۔ شمار 25

سال دو ہزار دس درجہ بندی 143 ۔ شمار 23

سال دو ہزار نو درجہ بندی 139 ۔ شمار 24 ۔

کم درجہ بندی = کم بدعنوان ملک

زیادہ شمار = کم ہوتی بدعنوانی ۔

امسال ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ مندرجہ زیل سوالات کے جواب دیتی نظر آتی ہے۔

پاکستان میں بدعنوانی کم ہو رہی ہے یا بڑھ رہی ہیں؟

کیا دنیا کے باقی ترقی پزیر ممالک ہم سے بہتر ہیں؟

بدعنوانی کو ملکی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھنے والی نئی سیاسی قیادت کیا اقتدار میں آنے کے بعد کچھ نیا کر پائے گی؟ ۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق: ’ادراک بدعنوانی درجہ بندی برائے دو ہزار سولہ‘ کے مطابق دنیا کا کوئی ملک کامل و بےعیب درجہ بندی حاصل نہیں کرسکا۔ دنیا کے دو تہائی سے زائد ممالک اس درجہ بندی میں درمیانی درجہ پر ہیں۔

معاشی عدم مساوات اور بدعنوانی معاشرتی بے چینی کا سبب ہیں۔ جب روایتی سیاست دان بدعنوانی کے خاتمے میں ناکام ہوتے ھیں تو عوام یاسیت کا شکار رہتے ہیں۔ اور نئی قیادت کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھتے ہیں۔

مگر یہ رجحان اکثرعلاج کی بجائے شدتِ مرض میں اضافے کا سبب بن جاتا ہے۔

مترجم محمد علی شیخ بینکنگ کے پیشہ ور تربیت کار ہیں۔


Understanding Pakistan Series

What to expect in Pakistan in 2017

Back to the future: Pakistan in 2050

Wali on Pakistan of future

A miracle: Pakistan score in Long Term Orientation goes from Zero to 50

Pakistani culture through 6-D Model

Native languages in Pakistan

How future oriented are we?

How we messed up Pakistan: A series by Wali

Pakistan’s two value crimes no one talks about

Is Whatsapp your source of info? Welcome to Project Ignorance

There are currently no comments.