سال 2017 اور پاکستان کی معیشت کے بارے میں 17 پیش گوئیان

تحریر: ولی زاہد
ترجمہ: محمد علی شیخ

جیسا کہ پاکستان ایک ترقی پزیر معیشت سے ابھرتی ہوئی معیشت بن رہا ہے، 2017 اس کی ستر سالہ تاریخ کا بہترین سال ہو گا۔

غیرملکی سرمایہ کاری میں مسلسل اضافہ، درآمدوبرآمدبینک کا قیام، کارسازی کی صنعت میں پھیلائو، وہ واقعات ہیں جن کی توقع 2017 میں کی جا رہی ہے ۔

خالص قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی نمو

گو کہ جی ڈی پی نمو کے بارے میں آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور وفاقی بجٹ کے تخمینے مختلف ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کی امسال جی ڈی پی شرح نمو4.7 فیصد تک ہونے کی توقع ہے۔ سالانہ جی ڈی پی 270 سے 300 بلین ڈالر تک بڑھنے کا امکان ھے۔ پہلی مرتبہ قوت خریداری ایک ٹرلیئن ڈالرکا سنگ میل عبورکرے گی۔ پاکستان عالمی معاشی درجہ بندی میں چالیسویں نمبر پر ہے جس میں ایک سے دو درجہ ترقی کا امکان ہے۔

قرضے

قومی قرضے جو فی الحال 73 بلین ڈالر کے ہیں وہ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

قرضوں اور قومی پیداوار کا تناسب

حالیہ 64.8 فیصد، معمولی کمی کا امکان ہے۔

زرمبادلہ

زرمبادلہ کے زخائر 23 سے 24 بلین ڈالر بڑھنے کا امکان ھے ۔

اسٹاک مارکیٹ

۔ بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کے ساتھ پاکستان،ایم سی ایس آئی کی ابھرتی ہوئی مارکیٹ درجہ بندی میں مئی کے مہینے تک جگہ پالے گا۔

ایم سی ایس آئی سرمایہ کاری کے فیصلوں میں مدد و رہنمائی کرنے والی معروف کمپنی ہے ۔

دو ہزار سولہ میں میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج 46 فیصد حاصل فراہم کر سکا۔ کراچی سٹاک ایکسچینج حالیہ درجہ بندی 48,000 پوائنٹس سے بڑھ کر 55,000 پوائنٹس ہو جائے گی۔ چالیس فیصد حصص کی چینی شراکت داری کو منتقلی، دیگرغیرملکی سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبزول کرے گی۔

صارف فروخت کاری (Retail)

مزید کئی نئے شاپنگ مال کھلیں گے ۔ سپراسٹور وغیرہ بھی کئی نئے آوٹ لیٹ کھولیں گے ۔

ٹیکس دہندگان

فعال ٹیکس دھندگان کی تعداد بارہ لاکھ تک جا پہنچے گی۔

برآمدات

آئی ٹی کی برآمدات بڑھنے کے با وجود، مجموعی برآمدات کم ہونے کا امکان ھے جس کی وجوہات میں کپاس کی پیداوارمیں کمی، ناقض مسابقتی حکمت عملی، اور سفری انتباہ شامل ہیں۔

درآمد و برآمد بینک

بشرط اجازت مرکزی بینک، درآمد و برآمد بینک جون کے مہینے سے درآمدوبرآمد کنندگان کو سہولیات فراہم کرے گا۔

براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری

غیر ملکی سرمایہ کاری امسال ایک بلین ڈالرکا سنگ میل عبور کرے گی ۔

ترسیلات زر

۔2016 میں کمی کے رجحان کے باوجود، امسال بیرون ممالک سے ترسیلات زربیس بلین ڈالرکا سنگ میل عبور کرے گی۔

افراط زر

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی برقرار رہنے کے باعث، افراط زر چار سے پانچ فیصد رہنے کا امکا ن ہے۔

زراعت

کپاس کی پیداوار میں کمی، زراعت کے شعبے پر منفی اثرات مرتب کرے گی۔

مالیات

مالیاتی شمولیت کے ساتھ یہ شعبہ ترقی کرے گا۔ مائیکرو فنانس اور کمرشل مالیاتی اداروں کے بہتر مواقع ہوں گے۔

شمارہ اشاری برائے سہولیات کاروبار (Ease of doing business index)

۔190 ممالک کی فہرست میں پاکستان کا درجہ 144 ہے۔ عالمی بنک کے مطابق، پاکستان پہلے دس تیزترین اصلاح پزیر ممالک میں شامل ہے، جس میں مزید بہتری کا امکان ہے۔

کارسازی کی صنعت

پاک چین اقتصادی راہداری سے متعلقہ سامان کی نقل وحمل کے لیے اضافی ایک لاکھ ٹرکوں کی ضرورت پڑے گی۔ بظاہر نہیں لگتا کہ یہ ضرورت وقت پر پوری ہو پائے گی۔ مقامی تیار شدہ اور درآمد شدہ گاڑیوں کی طلب بڑھے گی۔ واکس ویگن، نسان، کیا اور رینال کے پاکستان میں کارسازی میں اظہاردلچسپی کے باوجود یہ پیداوار اس سال شروع نہی ہو پائے گی۔ جس کے نتیجے میں پہلے سے موجود کارسازوں ہونڈا، سوزوکی اور ٹویوٹا کی اجارہ داری برقرار رہے گی۔
۔
مصنف ولی زاہد سابق صحافی اور پیشہ ور تربیت کار ہیں
مترجم محمد علی شیخ بینکنگ و تجارت کے پیشہ ور تربیت کار ہیں

There are currently no comments.